عشق میں کب یہ ضروری ہے کہ رویا جائے

گوپال متل

عشق میں کب یہ ضروری ہے کہ رویا جائے

گوپال متل

MORE BYگوپال متل

    عشق میں کب یہ ضروری ہے کہ رویا جائے

    یہ نہیں داغ ندامت جسے دھویا جائے

    دوپہر ہجر کی تپتی ہوئی سر پر ہے کھڑی

    وصل کی رات کو شکوؤں میں نہ کھویا جائے

    الجھے اب پنجۂ وحشت نہ گریبانوں سے

    آج اسے سینۂ اعدا میں گڑویا جائے

    ایک ہی گھونٹ سہی آج تو پی لے زاہد

    کچھ نہ کچھ زہد کی خشکی کو سمویا جائے

    جتنے بھی داغ رعونت کے ہیں دھل جائیں گے

    حوض مے میں تجھے شیخ آج ڈبویا جائے

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-gopal mittal (Pg. 173)
    • Author : Gopal Mittal
    • مطبع : Modern Publishing House, Daryaganj New delhi (1994)
    • اشاعت : 1994

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY