عشق میاں اس آگ میں میرا ظاہر ہی چمکا دینا

عرفان صدیقی

عشق میاں اس آگ میں میرا ظاہر ہی چمکا دینا

عرفان صدیقی

MORE BY عرفان صدیقی

    عشق میاں اس آگ میں میرا ظاہر ہی چمکا دینا

    میرے بدن کی مٹی کو ذرا کندن رنگ بنا دینا

    آؤ تمہاری نذر کریں ہم ایک چراغ حکایت کا

    جب تک جاگو روشن رکھنا نیند آئے تو بجھا دینا

    بیس اکیس برس پیچھے ہمیں کب تک ملتے رہنا ہے

    دیکھو، اب کی بار ملو تو دل کی بات بتا دینا

    سینے کے ویرانے میں یہ خوشبو ایک کرامت ہے

    ورنہ اتنا سہل نہیں تھا راکھ میں پھول کھلا دینا

    دل کی زمیں تک روشنیاں تھیں، چہرے تھے، ہریالی تھی

    اب تو جہاں بھی ساحل پانا کشتی کو ٹھہرا دینا

    مولیٰ، پھر مرے صحرا سے بن برسے بادل لوٹ گئے

    خیر، شکایت کوئی نہیں ہے اگلے برس برسا دینا

    خواجہ خضر سنو ہم کب سے اس بستی میں بھٹکتے ہیں

    تم کو اگر تکلیف نہ ہو تو جنگل تک پہنچا دینا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY