یہ برف کس لیے پگھل نہیں رہی
یہ برف کس لیے پگھل نہیں رہی
زمیں لباس کیوں بدل نہیں رہی
ہماری شاخ کے ثمر کدھر گئے
ہوا تو اتنی تیز چل نہیں رہی
وہ صبح راستے میں مر گئی کہاں
یہ رات ہے کہ سر سے ٹل نہیں رہی
بھبھک اٹھی ہے پھر یہ کیسی روشنی
ابھی تو کوئی شمع جل نہیں رہی
زمین ہم پہ تنگ کر رہے ہیں جو
زمین کیوں انہیں نگل نہیں رہی
ہمارا حال پوچھنے سے فائدہ
طبیعت ان دنوں سنبھل نہیں رہی
Ek Diya Aur Ek Phool
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.