اسی دنیا میں دنیائیں ہماری بھی بسی ہیں

محمد اظہار الحق

اسی دنیا میں دنیائیں ہماری بھی بسی ہیں

محمد اظہار الحق

MORE BYمحمد اظہار الحق

    اسی دنیا میں دنیائیں ہماری بھی بسی ہیں

    روش سے سیڑھیاں مرمر کی پانی میں گئی ہیں

    محل ہے اور سلگتا عود ہے اور جھاڑ فانوس

    لہو سے مشک اعضا سے شعاعیں پھوٹتی ہیں

    تمنا کے جزیرے آسمانوں میں بنے ہیں

    مرے چاروں طرف لہریں اسی جانب اٹھی ہیں

    یہ کیسی دھوپ اور پانی میں افزائش ہوئی ہے

    بہشتی ٹہنیاں اس اوڑھنی سے جھانکتی ہیں

    ہمارا نام بھی بارہ دری پر نقش کرنا

    یہ ساری جالیاں ہم نے نگاہوں سے بنی ہیں

    مآخذ:

    • کتاب : meyaar (Pg. 387)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY