اتنا آساں نہیں مسند پہ بٹھایا گیا میں

عباس تابش

اتنا آساں نہیں مسند پہ بٹھایا گیا میں

عباس تابش

MORE BYعباس تابش

    اتنا آساں نہیں مسند پہ بٹھایا گیا میں

    شہر تہمت تری گلیوں میں پھرایا گیا میں

    میرے ہونے سے یہاں آئی ہے پانی کی بہار

    شاخ گریہ تھا سر دشت لگایا گیا میں

    یہ تو اب عشق میں جی لگنے لگا ہے کچھ کچھ

    اس طرف پہلے پہل گھیر کے لایا گیا میں

    خوب اتنا تھا کہ دیوار پکڑ کر نکلا

    اس سے ملنے کے لیے صورت سایہ گیا میں

    تجھ سے کچھ کہنے کی ہمت ہی نہیں تھی ورنہ

    ایک مدت تری دہلیز تک آیا گیا میں

    خلوت خاص میں بلوانے سے پہلے تابشؔ

    عام لوگوں میں بہت دیر بٹھایا گیا میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے