اتنا ہی بہت ہے کہ یہ بارود ہے مجھ میں

عاطف کمال رانا

اتنا ہی بہت ہے کہ یہ بارود ہے مجھ میں

عاطف کمال رانا

MORE BYعاطف کمال رانا

    اتنا ہی بہت ہے کہ یہ بارود ہے مجھ میں

    انگارہ نما شخص بھی موجود ہے مجھ میں

    پوروں سے نکل آئی ہے اک برف کی ٹہنی

    اے دوست یہی آتش نمرود ہے مجھ میں

    ہر گیند کے پیچھے کوئی آتا ہے ہمیشہ

    یہ کون سے بچے کی اچھل کود ہے مجھ میں

    گالی نہیں اچھی تو تمہیں پیش کروں کیا

    اک اور بھی جملہ سخن آلود ہے مجھ میں

    میں دیکھتا رہتا ہوں کہ وہ کھڑکی ہے خالی

    تا حال یہی رونق بے سود ہے مجھ میں

    یوں ہی تو نہیں لوگ گزرتے مرے دل سے

    لگتا ہے کوئی منزل مقصود ہے مجھ میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY