اتنے چہرے ہیں سبھی پر پیار روشن ہے

رئیس فراز

اتنے چہرے ہیں سبھی پر پیار روشن ہے

رئیس فراز

MORE BYرئیس فراز

    اتنے چہرے ہیں سبھی پر پیار روشن ہے

    کیا خبر چہروں کے پیچھے کون دشمن ہے

    دور تک پہنچا کے ہم اپنی صدا خوش ہیں

    ورنہ سمجھیں تو یہ اپنا کھوکھلا پن ہے

    لوگ تنکے ادھ جلے سگریٹ کے ٹکڑے

    اپنی دنیا راکھ اور تنکوں کا برتن ہے

    کر رکھے تھے بند اس پر میں نے دروازے

    گھر میں اب کتنی گھٹن ہے کتنی سیلن ہے

    کھینچ کر الفاظ کو لاتا تو ہوں لیکن

    آج کے صفحات پر پھسلن ہی پھسلن ہے

    تم بھی اپنی پشت پر اک پوسٹر رکھ لو

    آج کل سنتے ہیں کچھ ایسا ہی فیشن ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY