اتنی ساری شاموں میں ایک شام کر لینا

انجم عرفانی

اتنی ساری شاموں میں ایک شام کر لینا

انجم عرفانی

MORE BYانجم عرفانی

    اتنی ساری شاموں میں ایک شام کر لینا

    سوگ چند لمحوں کا میرے نام کر لینا

    لوٹ کر یقیناً میں ایک روز آؤں گا

    پلکوں پہ چراغوں کا اہتمام کر لینا

    اک جنم کا میں پیاسا راستہ بھی ہے لمبا

    ایک قلزم مے کا انتظام کر لینا

    ہم فنا نصیبوں کو اور کچھ نہیں آتا

    خوں شراب کر لینا جسم جام کر لینا

    یہ پرند پروردہ ہے کھلی فضاؤں کا

    سبز باغ دکھلا کر زیر دام کر لینا

    خاک سے ہماری بھی ہو کبھی گزر تیرا

    بر زبان شمع و گل کچھ کلام کر لینا

    بے تکلفانہ آ سادہ لوح لوگوں میں

    رنگ آشناؤں میں جشن بام کر لینا

    وقت شام پلکوں پر جھلملا اٹھیں تارے

    شامل دعا انجمؔ کا بھی نام کر لینا

    مأخذ :
    • کتاب : libaas-e-zakhm (Pg. 143)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY