اتراتا گریباں پر تھا بہت، رہ عشق میں کب کا چاک ہوا

اجمل صدیقی

اتراتا گریباں پر تھا بہت، رہ عشق میں کب کا چاک ہوا

اجمل صدیقی

MORE BY اجمل صدیقی

    اتراتا گریباں پر تھا بہت، رہ عشق میں کب کا چاک ہوا

    وہ قصۂ آزادانہ روی، اس زلف کے ہاتھوں پاک ہوا

    کیا کیا نہ پڑھا اس مکتب میں، کتنے ہی ہنر سیکھے ہیں یہاں

    اظہار کبھی آنکھوں سے کیا کبھی حد سے سوا بے باک ہوا

    جس دن سے گیا وہ جان غزل ہر مصرعے کی صورت بگڑی

    ہر لفظ پریشاں دکھتا ہے، اس درجہ ورق نمناک ہوا

    خوش رہیو سن اے باد صبا کہیں اور تو اپنے ناز دکھا

    تو جس کے بال اڑاتی تھی وہ شخص تو کب کا خاک ہوا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY