عزت مجھے ملی ہے بہت التجا کے بعد

عرفان عابدی مانٹوی

عزت مجھے ملی ہے بہت التجا کے بعد

عرفان عابدی مانٹوی

MORE BYعرفان عابدی مانٹوی

    عزت مجھے ملی ہے بہت التجا کے بعد

    در پہ گیا نہ غیر کے رب کی عطا کے بعد

    اچھا ہوا کہ آرزو پوری نہیں ہوئی

    نکھری ہماری خواہشیں اپنی قضا کے بعد

    کرنے لگیں گے راہ میں جگنو بھی روشنی

    سورج جو ڈوب جائے گا ختم ضیا کے بعد

    ہر بے وفا نے آشیاں اپنا بدل دیا

    تنہا رہا ہوں شہر میں ذکر وفا کے بعد

    پانی پہ میں نے مار کے پتھر سمجھ لیا

    ڈوبیں گے اہل ظلم بھی جور و جفا کے بعد

    ہوں گے ہزار قسم کے انجم تو کیا ہوا

    تب بھی فلک نہ چاہئے ماں کی ردا کے بعد

    عرفانؔ وہ تو خلد میں کرنے لگے سفر

    مسجد کی اور آئے جو فرش عزا کے بعد

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY