عزت انہیں ملی وہی آخر بڑے رہے

واصف دہلوی

عزت انہیں ملی وہی آخر بڑے رہے

واصف دہلوی

MORE BYواصف دہلوی

    عزت انہیں ملی وہی آخر بڑے رہے

    جو خاک ہو کے آپ کے در پر پڑے رہے

    اے دوست مغتنم ہیں وہ مردان با وقار

    عسرت میں بھی جو آن پہ اپنی اڑے رہے

    پایاب ہو کے سیل نے ان کے قدم لیے

    منجدھار میں جو پاؤں جمائے کھڑے رہے

    پڑتی نہیں ہر ایک پہ اس کی نگاہ ناز

    ساقی کے آستاں پہ ہزاروں پڑے رہے

    اپنوں کی تلخ گوئی کی لذت نہ پوچھیے

    بھالے سے عمر بھر رگ جاں میں گڑے رہے

    مانند سنگ میل دکھائی ہر اک کو راہ

    لیکن خود اپنے پاؤں زمیں میں گڑے رہے

    ظالم سے ایک بوسے پہ برسوں رہی ہے ضد

    آخر تک اپنی بات پہ ہم بھی اڑے رہے

    شاید کہ ملتفت ہو کوئی شہسوار ناز

    کس آرزو سے ہم سر منزل کھڑے رہے

    فتنے بہت ہیں بت کدہ و خانقاہ میں

    اچھے رہے جو دشت جنوں میں پڑے رہے

    واصفؔ کا انتظار تھا صحرا میں بعد قیس

    کانٹے بھی مدتوں یوں ہی پیاسے پڑے رہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY