جام خالی جہاں نظر آیا

عزیز لکھنوی

جام خالی جہاں نظر آیا

عزیز لکھنوی

MORE BYعزیز لکھنوی

    جام خالی جہاں نظر آیا

    میری آنکھوں میں خوں اتر آیا

    وہ بہت کم کسی نے دیکھا ہے

    مجھ کو جو کچھ یہاں نظر آیا

    جھک گئے آسمان سجدے میں

    کون یہ اپنے بام پر آیا

    کانپ اٹھا چرخ ہل گئی دنیا

    وہ جہاں اپنی بات پر آیا

    اس نے پوچھا مزاج کیسا ہے

    دل جو امڈا ہوا تھا بھر آیا

    جب کبھی اس نے کی نظر مجھ پر

    ایک چھالا نیا ابھر آیا

    تیری جانب سے ہوشیار گیا

    اپنی جانب سے بے خبر آیا

    جب کیا قصد ضبط آہ عزیزؔ

    دل میں چھالا سا اک ابھر آیا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY