جاں سے گزرے بھی تو دریا سے گزاریں گے تمہیں

عرفان صدیقی

جاں سے گزرے بھی تو دریا سے گزاریں گے تمہیں

عرفان صدیقی

MORE BY عرفان صدیقی

    جاں سے گزرے بھی تو دریا سے گزاریں گے تمہیں

    ساتھ مت چھوڑنا ہم پار اتاریں گے تمہیں

    تم سنو یا نہ سنو ہاتھ بڑھاؤ نہ بڑھاؤ

    ڈوبتے ڈوبتے اک بار پکاریں گے تمہیں

    دل پہ آتا ہی نہیں فصل طرب میں کوئی پھول

    جان، اس شاخ شجر پر تو نہ واریں گے تمہیں

    کھیل یہ ہے کہ کسے کون سوا چاہتا ہے

    جیت جاؤ گے تو جاں نذر گزاریں گے تمہیں

    کیسی زیبائی ہے جب سے تمہیں چاہا ہم نے

    اور چاہیں گے تمہیں اور سنواریں گے تمہیں

    عشق میں ہم کوئی دعویٰ نہیں کرتے لیکن

    کم سے کم معرکۂ جاں میں نہ ہاریں گے تمہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY