جانے والا اضطراب دل نہیں

جلالؔ لکھنوی

جانے والا اضطراب دل نہیں

جلالؔ لکھنوی

MORE BYجلالؔ لکھنوی

    جانے والا اضطراب دل نہیں

    یہ تڑپ تسکین کے قابل نہیں

    جان دے دینا تو کچھ مشکل نہیں

    جان کا خواہاں مگر اے دل نہیں

    تجھ سے خوش چشم اور بھی دیکھے مگر

    یہ نگہ یہ پتلیاں یہ تل نہیں

    رہتے ہیں بے خود جو تیرے عشق میں

    وہ بہت ہشیار ہیں غافل نہیں

    جو نہ سسکے وہ ترا کشتہ ہے کب

    جو نہ تڑپے وہ ترا بسمل نہیں

    ہجر میں دم کا نکلنا ہے محال

    آپ آ نکلیں تو کچھ مشکل نہیں

    آئیے حسرت بھرے دل میں کبھی

    کیا یہ محفل آپ کی محفل نہیں

    ہم تو زاہد مرتے ہیں اس خلد پر

    جو بہشتوں میں ترے شامل نہیں

    وہ تو وہ تصویر بھی اس کی جلالؔ

    کہتی ہے تم بات کے قابل نہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Intekhab-e-kalam  Miir Zamin Ali Jalal (Pg. 57)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY