جاری سفر ہے اپنا سفر کے بغیر بھی

پورن سنگھ ہنر

جاری سفر ہے اپنا سفر کے بغیر بھی

پورن سنگھ ہنر

MORE BYپورن سنگھ ہنر

    جاری سفر ہے اپنا سفر کے بغیر بھی

    ہم چل رہے ہیں راہ گزر کے بغیر بھی

    دیوار کے بغیر بھی در کے بغیر بھی

    جیتے ہیں کتنے لوگ تو گھر کے بغیر بھی

    کیا کیا کیا ذلیل مجھے خواہشات نے

    جھکتا گیا ہے سر ترے در کے بغیر بھی

    قدروں کا یہ زوال یہ کج فہمیوں کا دور

    سب با ہنر ہوئے ہیں ہنر کے بغیر بھی

    کمزور ہو گیا ہے شجر اپنی ذات کا

    ہر شاخ جھک گئی ہے ثمر کے بغیر بھی

    سچی سماعتوں کا زمانہ گزر گیا

    نغمے پنپ رہے ہیں اثر کے بغیر بھی

    یہ میں شب فراق کی کن منزلوں میں ہوں

    سورج نکل رہا ہے سحر کے بغیر بھی

    کن واقعوں نے ان کا لہو سرد کر دیا

    ڈرتے ہیں لوگ اب کسی ڈر کے بغیر بھی

    رہنے دو اس کو اپنی انا کے دباؤ میں

    سب کام چل رہے ہیں ہنرؔ کے بغیر بھی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY