جاتے ہے خانقاہ سے واعظ سلام ہے

امداد علی بحر

جاتے ہے خانقاہ سے واعظ سلام ہے

امداد علی بحر

MORE BYامداد علی بحر

    جاتے ہے خانقاہ سے واعظ سلام ہے

    ہم دیر سے چلے صنم اب رام رام ہے

    صورت وہ سانولی کہ کنھیا غلام ہے

    میرے صنم سے خوب تر اللہ کا نام ہے

    در پیش ہے وہ منزل نا طاقتی ہمیں

    اٹھے جو ہم سفر ہے جو بیٹھے مقام ہے

    صیاد ہی بہار کے پردے میں بلبلو

    ہر غنچہ ہے قفس رگ گل تار رام ہے

    کیوں کر نہ میری یاد فراموش ہو اسے

    سمجھا ہے یار ننگ جسے میرا نام ہے

    میرا لہو چٹائے گا جب تک نہ تیغ کو

    قاتل کو دہنے ہاتھ کا کھانا حرام ہے

    ساقی سے ہو جو دل شکنی بھی تو لطف ہے

    ٹوٹا جو شیشہ میری بغل کا تو جام ہے

    فصل بہار بات کی بات اس چمن میں ہے

    آواز غنچہ رخصت گل کا پیام ہے

    مستی ٹپک رہی ہے یہاں بال بال سے

    تن میں لہو نہیں یہ مے لعل فام ہے

    تحریر حال کی کسے طاقت ہے نامہ بر

    ہے جان ہونٹوں پر یہ زبانی پیام ہے

    وہ ماہ رو چھپا ہے محاق حجاب میں

    عاشق کے زندگی کا مہینہ تمام ہے

    سمجھے رہیں بہت مرے کم مائیگی حریف

    قطرہ وہ ہوں کہ آج مرا بحرؔ نام ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY