جب آسمان پر مہ و اختر پلٹ کر آئے

عابد مناوری

جب آسمان پر مہ و اختر پلٹ کر آئے

عابد مناوری

MORE BYعابد مناوری

    جب آسمان پر مہ و اختر پلٹ کر آئے

    ہم رخ پہ دن کی دھوپ لیے گھر پلٹ کر آئے

    نظارہ جن کا باعث رحم نگاہ تھا

    آنکھوں کے سامنے وہی منظر پلٹ کر آئے

    ہر گھر سلگ رہا تھا عجب سرد آگ میں

    جب عرصہ گاہ جنگ سے لشکر پلٹ کر آئے

    صد رشک التفات تھا جب اس کا جور بھی

    جی کیوں نہ چاہے پھر وہ ستم گر پلٹ کر آئے

    جو بات گفتنی تھی وہی ان کہی رہی

    بے رس جو تذکرے تھے زباں پر پلٹ کر آئے

    دنیا سے ہو گئے نہ ہوں آزردہ دل کہیں

    پھر اس زمین پر نہ پیمبر پلٹ کر آئے

    یہ بات اگر ہے سچ کہ پلٹتا نہیں ہے وقت

    لمحات غم مرے لیے کیوں کر پلٹ کر آئے

    کہتے ہیں اس نے دیکھی تھی کل ایک جل پری

    ہر لب پہ ہے دعا کہ شناور پلٹ کر آئے

    اے عابدؔ آسماں پہ نہ کچھ بھی اثر ہوا

    مجھ پر ہی میری آہ کے پتھر پلٹ کر آئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY