جب بھی دو آنسو نکل کر رہ گئے

صوفی تبسم

جب بھی دو آنسو نکل کر رہ گئے

صوفی تبسم

MORE BYصوفی تبسم

    جب بھی دو آنسو نکل کر رہ گئے

    درد کے عنواں بدل کر رہ گئے

    کتنی فریادیں لبوں پر رک گئیں

    کتنے اشک آہوں میں ڈھل کر رہ گئے

    رخ بدل جاتا مری تقدیر کا

    آپ ہی تیور بدل کر رہ گئے

    کھل کے رونے کی تمنا تھی ہمیں

    ایک دو آنسو نکل کر رہ گئے

    زندگی بھر ساتھ دینا تھا جنہیں

    دو قدم ہم راہ چل کر رہ گئے

    تیرے انداز تبسمؔ کا فسوں

    حادثے پہلو بدل کر رہ گئے

    مآخذ:

    • کتاب : sau-e-baar-e-chaman mahka (Pg. 128)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY