جب بھی شمع طرب جلائی ہے

فرید جاوید

جب بھی شمع طرب جلائی ہے

فرید جاوید

MORE BYفرید جاوید

    جب بھی شمع طرب جلائی ہے

    آنچ محرومیوں کی آئی ہے

    راستے اتنے بے کراں تو نہ تھے

    جستجو کتنی دور لائی ہے

    زحمت جستجو سے کیا ہوگا

    بوئے گل کس کے ہاتھ آئی ہے

    کتنی رنگینیوں میں تیری یاد

    کس قدر سادگی سے آئی ہے

    کہہ کے جان غزل تجھے ہم نے

    اپنی کم‌ مائیگی چھپائی ہے

    جب بھی جاویدؔ چھیڑ دی ہے غزل

    بات وارفتگی تک آئی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY