جب چاہا خود کو شاد یا ناشاد کر لیا

آفتاب اقبال شمیم

جب چاہا خود کو شاد یا ناشاد کر لیا

آفتاب اقبال شمیم

MORE BYآفتاب اقبال شمیم

    جب چاہا خود کو شاد یا ناشاد کر لیا

    اپنے لئے فریب سا ایجاد کر لیا

    کیا سوچنا کہ شوق کا انجام کیا ہوا

    جب اختیار پیشۂ فرہاد کر لیا

    خود سے چھپا کے خود کو زمانے کے خوف سے

    ہم نے تو اپنے آپ کو برباد کر لیا

    تھا عشق کا حوالہ نیا ہم نے اس لئے

    مضمون دل کو پھر سے طبع زاد کر لیا

    یوں بھی پناہ‌ سایہ کڑی دھوپ میں ملی

    آنکھیں جھکائیں اور تجھے یاد کر لیا

    آیا نیا شعور نئی الجھنوں کے ساتھ

    سمجھے تھے ہم کہ ذہن کو آزاد کر لیا

    بس کہ امام عصر کا فرمان تھا یہی

    منہ ہم نے سوئے قبلۂ اضداد کر لیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY