جب چھائی گھٹا لہرائی دھنک اک حسن مکمل یاد آیا

بشر نواز

جب چھائی گھٹا لہرائی دھنک اک حسن مکمل یاد آیا

بشر نواز

MORE BYبشر نواز

    جب چھائی گھٹا لہرائی دھنک اک حسن مکمل یاد آیا

    ان ہاتھوں کی مہندی یاد آئی ان آنکھوں کا کاجل یاد آیا

    سو طرح سے خود کو بہلا کر ہم جس کو بھلائے بیٹھے تھے

    کل رات اچانک جانے کیوں وہ ہم کو مسلسل یاد آیا

    تنہائی کے سائے بزم میں بھی پہلو سے جدا جب ہو نہ سکے

    جو عمر کسی کے ساتھ کٹی اس عمر کا پل پل یاد آیا

    جو زیست کے تپتے صحرا پر بھولے سے کبھی برسا بھی نہیں

    ہر موڑ پہ ہر اک منزل پر پھر کیوں وہی بادل یاد آیا

    ہم زود فراموشی کے لیے بدنام بہت ہیں پھر بھی بشرؔ

    جب جب بھی چلی مدماتی پون اڑتا ہوا آنچل یاد آیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY