جب گھر سے وہ بعد ماہ نکلے

مصحفی غلام ہمدانی

جب گھر سے وہ بعد ماہ نکلے

مصحفی غلام ہمدانی

MORE BYمصحفی غلام ہمدانی

    جب گھر سے وہ بعد ماہ نکلے

    منہ سے مرے کیوں نہ آہ نکلے

    دل وہ ہے کہ جس سے چاہ نکلے

    منہ وہ ہے کہ جس سے آہ نکلے

    زنداں کی تو اپنے سیر تو کر

    شاید کوئی بے گناہ نکلے

    مانیؔ سے کھنچی نہ خط کی تصویر

    لاکھوں ورق سیاہ نکلے

    خجلت یہ ہوئی کہ محکمے سے

    شرمندہ مرے گواہ نکلے

    رستے مسدود ہو گئے ہیں

    اب دیکھیے کیونکے راہ نکلے

    پلکیں نہیں چھوڑتیں کہ اک دم

    آنکھوں سے تری نگاہ نکلے

    اے آہ تو لے تو چل علم کو

    تا آنسوؤں کی سپاہ نکلے

    نکلا میں گلی سے اس کی اس طرح

    جیسے کوئی دادخواہ نکلے

    وہ سوختہ میں نہیں کہ جس کی

    تربت سے گل و گیاہ نکلے

    شعر اپنے جو مصحفیؔ پڑھوں میں

    منہ سے ترے واہ واہ نکلے

    مآخذ:

    • کتاب : kulliyat-e-mas.hafii(divan-e-doom) (Pg. 283)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY