جب ہر اک شہر بلاؤں کا ٹھکانہ بن جائے

احمد فراز

جب ہر اک شہر بلاؤں کا ٹھکانہ بن جائے

احمد فراز

MORE BYاحمد فراز

    جب ہر اک شہر بلاؤں کا ٹھکانہ بن جائے

    کیا خبر کون کہاں کس کا نشانہ بن جائے

    عشق خود اپنے رقیبوں کو بہم کرتا ہے

    ہم جسے پیار کریں جان زمانہ بن جائے

    اتنی شدت سے نہ مل تو کہ جدائی چاہیں

    یہی قربت تری دوری کا بہانہ بن جائے

    جو غزل آج ترے ہجر میں لکھی ہے وہ کل

    کیا خبر اہل محبت کا ترانہ بن جائے

    کرتا رہتا ہوں فراہم میں زر زخم کہ یوں

    شاید آئندہ زمانوں کا خزانہ بن جائے

    اس سے بڑھ کر کوئی انعام ہنر کیا ہے فرازؔ

    اپنے ہی عہد میں اک شخص فسانہ بن جائے

    RECITATIONS

    خالد مبشر

    خالد مبشر

    خالد مبشر

    جب ہر اک شہر بلاؤں کا ٹھکانہ بن جائے خالد مبشر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY