جب ہجر کے شہر میں دھوپ اتری میں جاگ پڑا تو خواب ہوا

محسن نقوی

جب ہجر کے شہر میں دھوپ اتری میں جاگ پڑا تو خواب ہوا

محسن نقوی

MORE BYمحسن نقوی

    جب ہجر کے شہر میں دھوپ اتری میں جاگ پڑا تو خواب ہوا

    مری سوچ خزاں کی شاخ بنی ترا چہرہ اور گلاب ہوا

    برفیلی رت کی تیز ہوا کیوں جھیل میں کنکر پھینک گئی

    اک آنکھ کی نیند حرام ہوئی اک چاند کا عکس خراب ہوا

    ترے ہجر میں ذہن پگھلتا تھا ترے قرب میں آنکھیں جلتی ہیں

    تجھے کھونا ایک قیامت تھا ترا ملنا اور عذاب ہوا

    بھرے شہر میں ایک ہی چہرہ تھا جسے آج بھی گلیاں ڈھونڈتی ہیں

    کسی صبح اسی کی دھوپ کھلی کسی رات وہی مہتاب ہوا

    بڑی عمر کے بعد ان آنکھوں میں کوئی ابر اترا تری یادوں کا

    مرے دل کی زمیں آباد ہوئی مرے غم کا نگر شاداب ہوا

    کبھی وصل میں محسنؔ دل ٹوٹا کبھی ہجر کی رت نے لاج رکھی

    کسی جسم میں آنکھیں کھو بیٹھے کوئی چہرہ کھلی کتاب ہوا

    مآخذ
    • کتاب : Kulliyat-e-mohsin (Pg. 900)
    • Author : Mohsin Naqvi
    • مطبع : Mavra Publishers (2010)
    • اشاعت : 2010

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY