جب اک چراغ راہ گزر کی کرن پڑے

مجید امجد

جب اک چراغ راہ گزر کی کرن پڑے

مجید امجد

MORE BY مجید امجد

    جب اک چراغ راہ گزر کی کرن پڑے

    ہونٹوں کی لو لطیف حجابوں سے چھن پڑے

    شاخ ابد سے جھڑتے زمانوں کا روپ ہے

    یہ لوگ جن کے رخ پہ گمان چمن پڑے

    یہ کس حسیں دیار کی ٹھنڈی ہوا چلی

    ہر موجۂ خیال پہ صد ہا شکن پڑے

    یہ کون ہے لبوں میں رسیلی رتیں گھلیں

    پلکوں کی اوٹ نیند میں گلگوں گگن پڑے

    اک پل بھی کوئے دل میں نہ ٹھہراؤ رہ نورد

    اب جس کے نقش پا میں چمن در چمن پڑے

    اک جست اس طرف بھی غزال زمانہ رقص

    رہ تیری دیکھتے ہیں خطا و ختن پڑے

    جب انجمن توجہ صد گفتگو میں ہو

    میری طرف بھی اک نگہ کم سخن پڑے

    صحرائے زندگی میں جدھر بھی قدم اٹھے

    رستے میں ایک آرزوؤں کا چمن پڑے

    اس جلتی دھوپ میں یہ گھنے سایہ دار پیڑ

    میں اپنی زندگی انہیں دے دوں جو بن پڑے

    اے شاطر ازل ترے ہاتھوں کو چوم لوں

    قریے میں میرے نام جو دیوانہ پن پڑے

    اے صبح دیر خیز انہیں آواز دے جو ہے

    اک شام زود خواب کے سکھ میں مگن پڑے

    امجدؔ طریق مے میں ہے یہ احتیاط شرط

    اک داغ بھی کہیں نہ سر پیرہن پڑے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY