جب اتنی جاں سے محبت بڑھا کے رکھی تھی

ظفر گورکھپوری

جب اتنی جاں سے محبت بڑھا کے رکھی تھی

ظفر گورکھپوری

MORE BYظفر گورکھپوری

    جب اتنی جاں سے محبت بڑھا کے رکھی تھی

    تو کیوں قریب ہوا شمع لا کے رکھی تھی

    فلک نے بھی نہ ٹھکانا کہیں دیا ہم کو

    مکاں کی نیو زمیں سے ہٹا کے رکھی تھی

    ذرا پھوار پڑی اور آبلے اگ آئے

    عجیب پیاس بدن میں دبا کے رکھی تھی

    اگرچہ خیمۂ شب کل بھی تھا اداس بہت

    کم از کم آگ تو ہم نے جلا کے رکھی تھی

    وہ ایسا کیا تھا کہ نا مطمئن بھی تھے اس سے

    اسی سے آس بھی ہم نے لگا کے رکھی تھی

    یہ آسمان ظفرؔ ہم پہ بے سبب ٹوٹا

    اڑان کون سی ہم نے بچا کے رکھی تھی

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY