جب خدا کو جہاں بسانا تھا

امداد امام اثرؔ

جب خدا کو جہاں بسانا تھا

امداد امام اثرؔ

MORE BYامداد امام اثرؔ

    جب خدا کو جہاں بسانا تھا

    تجھ کو ایسا نہیں بنانا تھا

    میرے گھر تیرا آنا جانا تھا

    وہ بھی اے یار کیا زمانہ تھا

    پھر گئے آپ میرے کوچے سے

    دو قدم پر غریب خانہ تھا

    جو نہ سمجھے کہ عاشقی کیا ہے

    اس سے بیکار دل لگانا تھا

    آئے تھے بخت آزمانے ہم

    آپ کو تیغ آزمانا تھا

    اے ستم گار قبر عاشق پر

    چند آنسو تجھے بہانا تھا

    تو نے رہنے دیا پس دیوار

    ورنہ اپنا کہاں ٹھکانا تھا

    اب جہاں پر ہے شیخ کی مسجد

    پہلے اس جا شراب خانہ تھا

    دخل اہل ریا نہ رکھتے تھے

    پاک بازوں کا آنا جانا تھا

    بزم میں غیر کو نہ بلواتے

    آپ کو جب ہمیں بلانا تھا

    وہ چمن اب خزاں رسیدہ ہے

    بلبلوں کا جہاں ترانہ تھا

    سنتے ہیں وہ شجر بھی سوکھ گیا

    جس پہ صیاد آشیانہ تھا

    دل نہ دیتے اسے تو کیا کرتے

    اے اثرؔ دکھ ہمیں اٹھانا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے