جب سے ہم رکھنے لگے ہیں کام اپنے کام سے

باصر سلطان کاظمی

جب سے ہم رکھنے لگے ہیں کام اپنے کام سے

باصر سلطان کاظمی

MORE BYباصر سلطان کاظمی

    جب سے ہم رکھنے لگے ہیں کام اپنے کام سے

    وہ ادھر آرام سے ہیں ہم ادھر آرام سے

    یہ بھی کٹ جائے گی جو تھوڑی بہت باقی ہے عمر

    ہم یہی کرتے رہیں گے کام اپنے عام سے

    اس در انصاف کے درباں بھی ہیں منصف بہت

    ہم جوں ہی فریاد سے باز آئے وہ دشنام سے

    عاشقی میں لطف تو سارا تجسس کی ہے دین

    کر دیا آغاز میں کیوں آشنا انجام سے

    خاک سے بنتی ہے جیسے خشت ہم کچھ اس طرح

    دیکھ کیا سونا بناتے ہیں خیال خام سے

    اس طرح مل جائے شاید باریابی کا شرف

    مشورہ ہے اب کے عرضی بھیج فرضی نام سے

    یا تو وہ تصویر ہے پیش نظر یا کچھ نہیں

    ہاتھ دھو دیدوں سے باصرؔ یہ گئے اب کام سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY