جب سے کہ بتوں سے آشنا ہوں

امام بخش ناسخ

جب سے کہ بتوں سے آشنا ہوں

امام بخش ناسخ

MORE BYامام بخش ناسخ

    جب سے کہ بتوں سے آشنا ہوں

    بیگانہ خدائی سے ہوا ہوں

    کیوں کر کہوں عارف خدا ہوں

    آگاہ نہیں کہ آپ کیا ہوں

    جب ہجر میں باغ کو گیا ہوں

    میں آتش گل میں جل بجھا ہوں

    فرقت میں جو سر پٹک رہا ہوں

    مشغول نماز کبریا ہوں

    منہ زرد ہے تنکے چن رہا ہوں

    اے وحشت کیا میں کہربا ہوں

    بیگانہ ہوں کیوں کر آشنا سے

    بیگانوں سے میں بھی آشنا ہوں

    منہ ان کا نہیں ہے شکر ورنہ

    ہر بت کہتا کہ میں خدا ہوں

    امید وصال اب کہاں ہے

    اس گل سے برنگ بو جدا ہوں

    کیوں دوست نہ خوش ہوں جائے ماتم

    سیماب کی طرح مر گیا ہوں

    خلقت خوش ہو جو میں ہوں پامال

    گلزار جہاں میں کیا حنا ہوں

    ہنس دوں گا دم میں مثل گل آپ

    غنچے کی طرح سے گو خفا ہوں

    آتش قدمی سے جلتے ہیں خار

    اے قیس میں وہ برہنہ پا ہوں

    کرتے ہیں گریز مجھ سے منحوس

    بے شبہ میں سایۂ ہما ہوں

    ہوں قافلۂ عدم سے آگے

    اس راہ میں نالۂ درا ہوں

    ناسخؔ کی یہ التجا ہے یا رب

    مر جاؤں تو خاک کربلا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY