جب سے مرنے کی جی میں ٹھانی ہے

جوشؔ ملیح آبادی

جب سے مرنے کی جی میں ٹھانی ہے

جوشؔ ملیح آبادی

MORE BYجوشؔ ملیح آبادی

    جب سے مرنے کی جی میں ٹھانی ہے

    کس قدر ہم کو شادمانی ہے

    شاعری کیوں نہ راس آئے مجھے

    یہ مرا فن خاندانی ہے

    کیوں لب التجا کو دوں جنبش

    تم نہ مانوگے اور نہ مانی ہے

    آپ ہم کو سکھائیں رسم وفا

    مہربانی ہے مہربانی ہے

    دل ملا ہے جنہیں ہمارا سا

    تلخ ان سب کی زندگانی ہے

    کوئی صدمہ ضرور پہنچے گا

    آج کچھ دل کو شادمانی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY