جب سے امید باندھی پتھر پر

نبیل احمد نبیل

جب سے امید باندھی پتھر پر

نبیل احمد نبیل

MORE BYنبیل احمد نبیل

    جب سے امید باندھی پتھر پر

    دھول سی جم گئی مقدر پر

    کس نے چادر دھویں کی تانی ہے

    میرے جنت مثال منظر پر

    میرے چارہ گروں نے رکھا ہے

    ایک اک راستے کو ٹھوکر پر

    آسماں کی طلب میں کٹ کر بھی

    پھڑپھڑاتے رہے برابر پر

    پاس تیر و کماں کے ہوتے ہوئے

    خوف طاری ہے میرے لشکر پر

    جب گھڑی امتحان کی آئی

    میں نے رکھ دی زباں اخگر پر

    قید کمرے میں ہو گیا ہوں نبیلؔ

    پھینک کر میں گلی سے باہر پر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY