جب شام ہوئی میں نے قدم گھر سے نکالا
جب شام ہوئی میں نے قدم گھر سے نکالا
ڈوبا ہوا خورشید سمندر سے نکالا
ہر چند کہ اس رہ میں تہی دست رہے ہم
سودائے محبت نہ مگر سر سے نکالا
جب چاند نمودار ہوا دور افق پر
ہم نے بھی پری زاد کو پتھر سے نکالا
دہکا تھا چمن اور دم صبح کسی نے
اک اور ہی مفہوم گل تر سے نکالا
اس مرد شفق فام نے اک اسم پڑھا اور
شہزادی کو دیوار کے اندر سے نکالا
Mitti Ki Sundarta Dekho
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.