جب تک چراغ شام تمنا جلے چلو

فرحت شہزاد

جب تک چراغ شام تمنا جلے چلو

فرحت شہزاد

MORE BYفرحت شہزاد

    جب تک چراغ شام تمنا جلے چلو

    دو چار ہی قدم ہے یہ رستہ چلے چلو

    اس حد کے بعد کوئی نہیں درمیاں میں حد

    طے کر چکے ہو اور جو سب مرحلے چلو

    بے خواب ''خون آنکھ'' میں دفنا کے زخم خواب

    ملنے کو ہے سحر سے یہ شب بھی گلے چلو

    شاید وہ ڈھونڈھتا ہو تمہیں جس کی کھوج ہے

    چہرے پہ جذب دل کے اجالے ملے چلو

    ہیں بادباں شکستہ مخالف ہوا مگر

    جب تک نہ دل میں آس کا سورج ڈھلے چلو

    پھر کون ناز اس کے اٹھائے گا بزم میں

    تنہائیوں کو اپنے ہی ہمراہ لے چلو

    آنکھوں میں خواب آگ رگوں میں جوان عزم

    شہزادؔ اب کہاں ہیں وہ سب سلسلے چلو

    مأخذ :
    • کتاب : Aaina Jhuta hai (Pg. 192)
    • Author : Farhat Shahzad
    • مطبع : Al-hamd Publication (1997)
    • اشاعت : 1997

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے