جب تک نگار داشت کا سینہ دکھا نہ تھا

بشیر بدر

جب تک نگار داشت کا سینہ دکھا نہ تھا

بشیر بدر

MORE BY بشیر بدر

    جب تک نگار دشت کا سینہ دکھا نہ تھا

    صحرا میں کوئی لالۂ صحرا کھلا نہ تھا

    دو جھیلیں اس کی آنکھوں میں لہرا کے سو گئیں

    اس وقت میری عمر کا دریا چڑھا نہ تھا

    جاگی نہ تھیں نسوں میں تمنا کی ناگنیں

    اس گندمی شراب کو جب تک چکھا نہ تھا

    ڈھونڈا کرو جہان تحیر میں عمر بھر

    وہ چلتی پھرتی چھاؤں ہے میں نے کہا نہ تھا

    اک بے وفا کے سامنے آنسو بہاتے ہم

    اتنا ہماری آنکھ کا پانی مرا نہ تھا

    وہ کالے ہونٹ جام سمجھ کر چڑھا گئے

    وہ آب جس سے میں نے وضو تک کیا نہ تھا

    سب لوگ اپنے اپنے خداؤں کو لائے تھے

    ایک ہم ایسے تھے کہ ہمارا خدا نہ تھا

    وہ کالی آنکھیں شہر میں مشہور تھیں بہت

    تب ان پہ موٹے شیشوں کا چشمہ چڑھا نہ تھا

    میں صاحب غزل تھا حسینوں کی بزم میں

    سر پر گھنیرے بال تھے ماتھا کھلا نہ تھا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    جب تک نگار داشت کا سینہ دکھا نہ تھا نعمان شوق

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY