جب تک یہ محبت میں بد نام نہیں ہوتا

مصحفی غلام ہمدانی

جب تک یہ محبت میں بد نام نہیں ہوتا

مصحفی غلام ہمدانی

MORE BYمصحفی غلام ہمدانی

    جب تک یہ محبت میں بد نام نہیں ہوتا

    اس دل کے تئیں ہرگز آرام نہیں ہوتا

    عالم سے ہمارا کچھ مذہب ہی نرالا ہے

    یعنی ہیں جہاں ہم واں اسلام نہیں ہوتا

    کب وعدہ نہیں کرتیں ملنے کا تری آنکھیں

    کس روز نگاہوں میں پیغام نہیں ہوتا

    بال اپنے بڑھاتے ہیں کس واسطے دیوانے

    کیا شہر محبت میں حجام نہیں ہوتا

    ملتا ہے کبھی بوسہ نے گالی ہی پاتے ہیں

    مدت ہوئی کچھ ہم کو انعام نہیں ہوتا

    ساقی کے تلطف نے عالم کو چھکایا ہے

    لبریز ہمارا ہی اک جام نہیں ہوتا

    کیوں تیرگیٔ طالع کچھ تو بھی نہیں کرتی

    یہ روز مصیبت کا کیوں شام نہیں ہوتا

    پھر میری کمند اس نے ڈالے ہی تڑائی ہے

    وہ آہوئے رم خوردہ پھر رام نہیں ہوتا

    نے عشق کے قابل ہیں نے زہد کے درخور ہیں

    اے مصحفیؔ اب ہم سے کچھ کام نہیں ہوتا

    مآخذ :
    • کتاب : kulliyat-e-mas.hafii (Pg. 84)
    • Author : ghulaam hamdaanii mashafii
    • مطبع : qaumi council baraye -farogh urdu (2006)
    • اشاعت : 2006

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY