جب تمہیں دیکھا نہ تھا آنکھوں میں کتنے سائے تھے

نور محمد یاس

جب تمہیں دیکھا نہ تھا آنکھوں میں کتنے سائے تھے

نور محمد یاس

MORE BY نور محمد یاس

    جب تمہیں دیکھا نہ تھا آنکھوں میں کتنے سائے تھے

    میں اسی دن سے اکیلا ہوں کہ جب تم آئے تھے

    آگ بھڑکی جب تو میں یہ سوچتا ہی رہ گیا

    کاغذی کپڑے مجھے کس وہم نے پہنائے تھے

    جانے کس نے ہم کو سورج سے کیا تھا منحرف

    جانے کس نے دھوپ میں وہ آئینے چمکائے تھے

    آسمانوں سے ہوا تھا نور و نزہت کا نزول

    آبشار اونچے پہاڑوں سے اتر کر آئے تھے

    منظروں میں تھی مرے حسن نظر سے آب و تاب

    پتھروں کے دل مرے احساس نے دھڑکائے تھے

    آس کے سائے میں ہم سہتے رہے کیسا عذاب

    آگ تھی قدموں تلے اور سر پہ بادل چھائے تھے

    دھوپ میں پھیلا دئیے کیوں تم نے یادوں کے گلاب

    کیا اسی دن کے لیے مجھ سے یہ خط لکھوائے تھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY