جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے

محمد رفیع سودا

جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے

محمد رفیع سودا

MORE BYمحمد رفیع سودا

    جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے

    تب میں نے اپنے دل میں لاکھوں خیال باندھے

    دو دن میں ہم تو ریجھے اے وائے حال ان کا

    گزرے ہیں جن کے دل کو یاں ماہ و سال باندھے

    تار نگہ میں اس کے کیونکر پھنسے نہ یہ دل

    آنکھوں نے جس کے لاکھوں وحشی غزال باندھے

    جو کچھ ہے رنگ اس کا سو ہے نظر میں اپنی

    گو جامہ زرد پہنے یا چیرہ لال باندھے

    تیرے ہی سامنے کچھ بہکے ہے میرا نالہ

    ورنہ نشانے ہم نے مارے ہیں بال باندھے

    بوسہ کی تو ہے خواہش پر کہیے کیونکہ اس سے

    جس کا مزاج لب پر حرف سوال باندھے

    ماروگے کس کو جی سے کس پر کمر کسی ہے

    پھرتے ہو کیوں پیارے تلوار ڈھال باندھے

    دو چار شعر آگے اس کے پڑھے تو بولا

    مضموں یہ تو نے اپنے کیا حسب حال باندھے

    سوداؔ جو ان نے باندھا زلفوں میں دل سزا ہے

    شعروں میں اس کے تو نے کیوں خط و خال باندھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY