جبیں پہ گرد ہے چہرہ خراش میں ڈوبا

فضا ابن فیضی

جبیں پہ گرد ہے چہرہ خراش میں ڈوبا

فضا ابن فیضی

MORE BYفضا ابن فیضی

    جبیں پہ گرد ہے چہرہ خراش میں ڈوبا

    ہوا خراب جو اپنی تلاش میں ڈوبا

    قلم اٹھایا تو سر پر کلاہ کج نہ رہی

    یہ شہریار بھی فکر معاش میں ڈوبا

    جھلے ہے پنکھا یہ زخموں پہ کون آٹھ پہر

    ملا ہے مجھ کو نفس ارتعاش میں ڈوبا

    اسے نہ کیوں تری دلداریٔ نظر کہیے

    وہ نیشتر جو دل پاش پاش میں ڈوبا

    فضاؔ ہے خالق صبح حیات پھر بھی غریب

    کہاں کہاں نہ افق کی تلاش میں ڈوبا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    جبیں پہ گرد ہے چہرہ خراش میں ڈوبا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY