جہان بھر کی تمام آنکھیں نچوڑ کر جتنا نم بنے گا

عمیر نجمی

جہان بھر کی تمام آنکھیں نچوڑ کر جتنا نم بنے گا

عمیر نجمی

MORE BYعمیر نجمی

    جہان بھر کی تمام آنکھیں نچوڑ کر جتنا نم بنے گا

    یہ کل ملا کر بھی ہجر کی رات میرے گریہ سے کم بنے گا

    میں دشت ہوں یہ مغالطہ ہے نہ شاعرانہ مبالغہ ہے

    مرے بدن پر کہیں قدم رکھ کے دیکھ نقش قدم بنے گا

    ہمارا لاشہ بہاؤ ورنہ لحد مقدس مزار ہوگی

    یہ سرخ کرتا جلاؤ ورنہ بغاوتوں کا علم بنے گا

    تو کیوں نہ ہم پانچ سات دن تک مزید سوچیں بنانے سے قبل

    مری چھٹی حس بتا رہی ہے یہ رشتہ ٹوٹے گا غم بنے گا

    مجھ ایسے لوگوں کا ٹیڑھ پن قدرتی ہے سو اعتراض کیسا

    شدید نم خاک سے جو پیکر بنے گا یہ طے ہے خم بنے گا

    سنا ہوا ہے جہاں میں بے کار کچھ نہیں ہے سو جی رہے ہیں

    بنا ہوا ہے یقیں کہ اس رائیگانی سے کچھ اہم بنے گا

    کہ شاہزادے کی عادتیں دیکھ کر سبھی اس پر متفق ہیں

    یہ جوں ہی حاکم بنا محل کا وسیع رقبہ حرم بنے گا

    میں ایک ترتیب سے لگاتا رہا ہوں اب تک سکوت اپنا

    صدا کے وقفے نکال اس کو شروع سے سن ردھم بنے گا

    سفید رومال جب کبوتر نہیں بنا تو وہ شعبدہ‌ باز

    پلٹنے والوں سے کہہ رہا تھا رکو خدا کی قسم بنے گا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    عمیر نجمی

    عمیر نجمی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY