جہان غنچۂ دل کا فقط چٹکنا تھا

فراق گورکھپوری

جہان غنچۂ دل کا فقط چٹکنا تھا

فراق گورکھپوری

MORE BYفراق گورکھپوری

    جہان غنچۂ دل کا فقط چٹکنا تھا

    اسی کی بوئے پریشاں وجود دنیا تھا

    یہ کہہ کے کل کوئی بے اختیار روتا تھا

    وہ اک نگاہ سہی کیوں کسی کو دیکھا تھا

    طنابیں کوچۂ قاتل کی کھنچتی جاتی تھیں

    شہید تیغ ادا میں بھی زور کتنا تھا

    بس اک جھلک نظر آئی اڑے کلیم کے ہوش

    بس اک نگاہ ہوئی خاک طور سینا تھا

    ہر اک کے ہاتھ فقط غفلتیں تھیں ہوش نما

    کہ اپنے آپ سے بیگانہ وار جینا تھا

    یہی ہوا کہ فریب امید و یاس مٹے

    وہ پا گئے ترے ہاتھوں ہمیں جو پانا تھا

    چمن میں غنچۂ گل کھلکھلا کے مرجھائے

    یہی وہ تھے جنہیں ہنس ہنس کے جان دینا تھا

    نگاہ مہر میں جس کی ہیں صد پیام فنا

    اسی کا عالم ایجاد و ناز بے جا تھا

    جہاں تو جلوہ نما تھا لرزتی تھی دنیا

    ترے جمال سے کیسا جلال پیدا تھا

    حیات و مرگ کے کچھ راز کھل گئے ہوں گے

    فسانۂ شب غم ورنہ دوستو کیا تھا

    شب عدم کا فسانہ گداز شمع حیات

    سوائے کیف فنا میرا ماجرا کیا تھا

    کچھ ایسی بات نہ تھی تیرا دور ہو جانا

    یہ اور بات کہ رہ رہ کے درد اٹھتا تھا

    نہ پوچھ سود و زیاں کاروبار الفت کے

    وگرنہ یوں تو نہ پانا تھا کچھ نہ کھوتا تھا

    لگاوٹیں وہ ترے حسن بے نیاز کی آہ

    میں تیری بزم سے جب ناامید اٹھا تھا

    تجھے ہم اے دل درد آشنا کہاں ڈھونڈیں

    ہم اپنے ہوش میں کب تھے کوئی جب اٹھا تھا

    عدم کا راز صدائے شکست ساز حیات

    حجاب زیست بھی کتنا لطیف پردا تھا

    یہ اضطراب و سکوں بھی تھی اک فریب حیات

    کہ اپنے حال سے بیگانہ وار جینا تھا

    کہاں پہ چوک ہوئی تیرے بے قراروں سے

    زمانہ دوسری کروٹ بدلنے والا تھا

    یہ کوئی یاد ہے یہ بھی ہے کوئی محویت

    ترے خیال میں تجھ کو بھی بھول جانا تھا

    کہاں کی چوٹ ابھر آئی حسن تاباں میں

    دم نظارہ وہ رخ درد سا چمکتا تھا

    نہ پوچھ رمز و کنایات چشم ساقی کے

    بس ایک حشر خموش انجمن میں برپا تھا

    چمن چمن تھی گل داغ عشق سے ہستی

    اسی کی نکہت برباد کا زمانہ تھا

    وہ تھا مرا دل خوں گشتہ جس کے مٹنے سے

    بہار باغ جناں تھی وجود دنیا تھا

    قسم ہے بادہ کشو چشم مست ساقی کی

    بتاؤ ہاتھ سے کیا جام مے سنبھلتا تھا

    وصال اس سے میں چاہوں کہاں یہ دل میرا

    یہ رو رہا ہوں کہ کیوں اس کو میں نے دیکھا تھا

    امید یاس بنی یاس پھر امید بنی

    اس اک نظر میں فریب نگاہ کتنا تھا

    یہ سوز و ساز نہاں تھا وہ سوز و ساز عیاں

    وصال و ہجر میں بس فرق تھا تو اتنا تھا

    شکست ساز چمن تھی بہار لالہ و گل

    خزاں مچلتی تھی غنچہ جہاں چٹکتا تھا

    ہر ایک سانس ہے تجدید یاد ایامے

    گزر گیا وہ زمانہ جسے گزرنا تھا

    نہ کوئی وعدہ نہ کوئی یقیں نہ کوئی امید

    مگر ہمیں تو ترا انتظار کرنا تھا

    کسی کے صبر نے بے صبر دیا سب کو

    فراقؔ نزع میں کروٹ کوئی بدلتا تھا

    مأخذ :
    • کتاب : Gul-e-Naghma (Pg. 28)
    • Author : Firaq Gorakhpuri
    • مطبع : Idarah idarah ilm-o-adab, Delhi (2006)
    • اشاعت : 2006

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY