جہاں کہیں سے وہ گلفام سا نکلتا ہے
جہاں کہیں سے وہ گلفام سا نکلتا ہے
مرا وہیں پہ کوئی کام سا نکلتا ہے
وہ چاند جھانکتا پھرتا ہے کھڑکیاں ایسے
کہیں دریچہ کہیں بام سا نکلتا ہے
مری کرن تو اسے صبح کرنا چاہتی ہے
وہ آفتاب کہ بس شام سا نکلتا ہے
ہر ایک شخص کو جادو سے خاص کرتی ہوں
حصار توڑ کے پھر عام سا نکلتا ہے
بلٹ تو چل نہیں سکتی ہر ایک بات پہ اب
سو منہ سے لفظ ہی دشنام سا نکلتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.