جہاں میں ڈالتے رہتے ہیں ماسوا کی طرح

غلام حسین ساجد

جہاں میں ڈالتے رہتے ہیں ماسوا کی طرح

غلام حسین ساجد

MORE BYغلام حسین ساجد

    دلچسپ معلومات

    17؍18جنور2004،لاہور

    جہاں میں ڈالتے رہتے ہیں ماسوا کی طرح

    درخت چل نہیں سکتے مگر ہوا کی طرح

    بھٹک کر آئی تھی کچھ دیر کو ادھر دنیا

    لپٹ گئی مرے دل سے کسی بلا کی طرح

    مرے حصار سے باہر بھی وہ نہیں رہتا

    مرے قریب بھی آتا نہیں خدا کی طرح

    بہت سے رنگ اترتے ہیں میری آنکھوں میں

    کسی کے دھیان میں الجھی ہوئی صدا کی طرح

    اتر گیا مرے دل میں وہ بے دھڑک لیکن

    لبوں پر آ نہیں پایا ہے مدعا کی طرح

    رواں دواں ہیں مرے آس پاس کی اشیا

    پڑا ہوا ہوں زمیں پر میں نقش پا کی طرح

    سمٹ سکوں گا نہ اپنے وجود میں ساجدؔ

    پہن لیا ہے کسی نے مجھے قبا کی طرح

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY