جہاں رقص کرتے اجالے ملے

سوہن راہی

جہاں رقص کرتے اجالے ملے

سوہن راہی

MORE BY سوہن راہی

    جہاں رقص کرتے اجالے ملے

    وہیں دل کے ٹوٹے شوالے ملے

    نہ پوچھو بہاروں کے رحم و کرم

    کہ پھولوں کے ہاتھوں میں چھالے ملے

    مری تیرہ بختی اور ان کی ہنسی

    سیاہی میں کرنوں کے بھالے ملے

    نہ کچھ موتیوں کی کمی تھی مگر

    بھنور سے ہمیں صرف ہالے ملے

    میں وہ روشنی کا نگر ہوں جہاں

    چراغوں کے چہرے بھی کالے ملے

    دماغوں سے ان کو مٹاؤ گے کیا

    کتابوں سے جن کے حوالے ملے

    ہماری وفائیں ٹھٹھرتی رہیں

    تمہیں رحمتوں کے دوشالے ملے

    تھی راہیؔ کی منزل بھی سب سے الگ

    اسے ہم سفر بھی نرالے ملے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY