جہاں شیشہ ہے پتھر جاگتے ہیں

احسن یوسف زئی

جہاں شیشہ ہے پتھر جاگتے ہیں

احسن یوسف زئی

MORE BYاحسن یوسف زئی

    جہاں شیشہ ہے پتھر جاگتے ہیں

    ضرر ایجاد گھر گھر جاگتے ہیں

    صدف آسودگی کی نیند سوئے

    مگر پیاسے سمندر جاگتے ہیں

    اڑی افواہ اندھی بستیوں میں

    ستاروں سے مقدر جاگتے ہیں

    لٹیروں کے لیے سوتی ہیں آنکھیں

    مگر ہم اپنے اندر جاگتے ہیں

    اندھیروں میں کھنڈر سوتا پڑا ہے

    ابابیلوں کے لشکر جاگتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY