جیسے ان سجدوں کا سر سے رشتہ ہے

ماجد دیوبندی

جیسے ان سجدوں کا سر سے رشتہ ہے

ماجد دیوبندی

MORE BYماجد دیوبندی

    جیسے ان سجدوں کا سر سے رشتہ ہے

    بالکل ایسا میرا گھر سے رشتہ ہے

    میری آنکھیں کچھ سوئی سی رہتی ہیں

    شاید ان کا خواب نگر سے رشتہ ہے

    تجھ کو کیسے بھول سکے گا دل میرا

    تیرا میرا تو اندر سے رشتہ ہے

    اے شہزادی ساتھ ہمارے مت چلنا

    بنجاروں کا دھوپ سفر سے رشتہ ہے

    لوح فلک پر لکھی ہے جس کی عزت

    ہم لوگوں کا اس کے در سے رشتہ ہے

    جس کے سائے میں ہم بخشے جائیں گے

    ہم لوگوں کا اس چادر سے رشتہ ہے

    وہ اوروں پر سنگ اچھالے نا ممکن

    ماجدؔ کا شیشے کے گھر سے رشتہ ہے

    مآخذ :
    • کتاب : Shaakh-e-Dil (Pg. 25)
    • Author : Dr. Majid Deobandi
    • مطبع : Anjum Book Depot, Delhi-6 (2011)
    • اشاعت : 2011

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY