جلتا ہوا جو چھوڑ گیا طاق پر مجھے

رفیق راز

جلتا ہوا جو چھوڑ گیا طاق پر مجھے

رفیق راز

MORE BYرفیق راز

    جلتا ہوا جو چھوڑ گیا طاق پر مجھے

    دیکھا نہ اس نے لوٹ کے پچھلے پہر مجھے

    وحشت سے تھا نوازنا اتنا اگر مجھے

    صحرا دیا ہے کیوں فقط آفاق بھر مجھے

    میں گونجتا تھا حرف میں ڈھلنے سے پیشتر

    گھیرا ہے اب سکوت نے اوراق پر مجھے

    شام و سحر کی گردشیں بھی دیکھنی تو ہیں

    اب چاک سے اتار مرے کوزہ گر مجھے

    دریائے موج خیز بھی جس پر سوار تھا

    ہونا پڑا سوار اسی ناؤ پر مجھے

    مجھ میں تڑپ رہا ہے کوئی چشمۂ سکوت

    ضرب عصا سے دیکھ کبھی توڑ کر مجھے

    پہنچا کدھر یہاں نہ زمیں ہے نہ آسماں

    اب کون سی مسافتیں کرنی ہیں سر مجھے

    تھے گنج بے قیاس تہہ قلزم وجود

    ڈوبا جو میں تو مل گئے لعل و گہر مجھے

    جو لا سکے نہ تاب ہی میرے جنون کی

    اس دشت کم سواد میں داخل نہ کر مجھے

    شاید ہٹا ہے غیب کا پردہ رفیق رازؔ

    آتا ہے نخل آب پہ شعلہ نظر مجھے

    مأخذ :
    • کتاب : Nakhl-e-Aab (Pg. 105)
    • Author : Rafeeq Raaz
    • مطبع : Takbeer Publications, Srinagar (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے