جتاتے رہتے ہیں یہ حادثے زمانے کے

سائل دہلوی

جتاتے رہتے ہیں یہ حادثے زمانے کے

سائل دہلوی

MORE BYسائل دہلوی

    جتاتے رہتے ہیں یہ حادثے زمانے کے

    کہ تنکے جمع کریں پھر نہ آشیانے کے

    سبب یہ ہوتے ہیں ہر صبح باغ جانے کے

    سبق پڑھاتے ہیں کلیوں کو مسکرانے کے

    ہزاروں عشق جنوں خیز کے بنے قصے

    ورق ہوے جو پریشاں مرے فسانے کے

    ہیں اعتبار سے کتنے گرے ہوے دیکھا

    اسی زمانے میں قصے اسی زمانے کے

    قرار جلوہ نمائی ہوا ہے فردا پر

    یہ طول دیکھیے اک مختصر زمانے کے

    نہ پھول مرغ چمن اپنی خوشنوائی پر

    جواب ہیں مرے نالے ترے ترانے کے

    اسی کی خاک ہے ماتھے کی زیب بندہ نواز

    جبیں پہ نقش پڑے ہیں جس آستانے کے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY