جزیرے کی طرح میری نشانی کس لیے ہے

اشفاق حسین

جزیرے کی طرح میری نشانی کس لیے ہے

اشفاق حسین

MORE BYاشفاق حسین

    جزیرے کی طرح میری نشانی کس لیے ہے

    مرے چاروں طرف پانی ہی پانی کس لیے ہے

    میں اکثر سوچتا ہوں دل کی گہرائی میں جا کر

    زمیں پر ایک چادر آسمانی کس لیے ہے

    بظاہر پر سکوں اور دل کی ہر اک رگ سلامت

    تو زیر سطح دریا اک روانی کس لیے ہے

    میں ٹوٹا ہوں تو اپنی کرچیاں بھی جوڑ لوں گا

    پہ چہرے پر مرے یہ شادمانی کس لیے ہے

    یہ دل بے حوصلہ دل میرے کہنے میں نہیں جب

    تو اپنے دل کی میں نے بات مانی کس لیے ہے

    کریں لہجے بدل کر گفتگو اک دوسرے سے

    ہمارے درمیاں یہ بے زبانی کس لیے ہے

    سبھی کردار اپنا کام پورا کر چکے ہیں

    تو آخر نا مکمل یہ کہانی کس لیے ہے

    مأخذ :
    • کتاب : اردو غزل کا مغربی دریچہ(یورپ اور امریکہ کی اردو غزل کا پہلا معتبر ترین انتخاب) (Pg. 496)
    • مطبع : کتاب سرائے بیت الحکمت لاہور کا اشاعتی ادارہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY