جہل کو علم کا معیار سمجھ لیتے ہیں

شاعر لکھنوی

جہل کو علم کا معیار سمجھ لیتے ہیں

شاعر لکھنوی

MORE BYشاعر لکھنوی

    جہل کو علم کا معیار سمجھ لیتے ہیں

    لوگ سائے کو بھی دیوار سمجھ لیتے ہیں

    چھیڑ کر جب بھی کسی زلف کو تو آتی ہے

    اے صبا ہم تری رفتار سمجھ لیتے ہیں

    تو فقط جام کا مفہوم سمجھ اے ساقی

    تشنگی کیا ہے یہ مے خوار سمجھ لیتے ہیں

    ہم کہ ہیں جنبش ابرو کی زباں سے واقف

    تیرے کھنچنے کو بھی تلوار سمجھ لیتے ہیں

    اب کسی برہمیٔ زلف کا چرچا نہ کرو

    لوگ اپنے کو گرفتار سمجھ لیتے ہیں

    جو بھی بازار میں دم بھر کو ٹھہر جاتا ہے

    سادہ دل اس کو خریدار سمجھ لیتے ہیں

    دل کے اسرار چھپاتے ہیں وہ ہم سے شاعرؔ

    ہم کہ رنگ لب و رخسار سمجھ لیتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY