جھانکتے لوگ کھلے دروازے

محمود شام

جھانکتے لوگ کھلے دروازے

محمود شام

MORE BY محمود شام

    جھانکتے لوگ کھلے دروازے

    چاند کا شہر بنے دروازے

    کس کی آہٹ کا فسوں طاری ہے

    محو ہیں آج بڑے دروازے

    بول کے دیں نہ کبھی دیواریں

    سر پٹختے ہی رہے دروازے

    لوگ محفوظ ہوئے کمروں میں

    برف کی زد میں رہے دروازے

    کبھی سورج کی کبھی ظلمت کی

    مار سہتے ہی رہے دروازے

    رات بھر چاندنی ٹکرائی مگر

    صبح ہوتے ہی کھلے دروازے

    دیکھ وہ شامؔ کی آہٹ ابھری

    دیکھ وہ بند ہوئے دروازے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY